ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / وزیر کے بیٹے کی گاڑی سے کچل کر 8 افراد ہلاک، کسان مظاہرین برہم

وزیر کے بیٹے کی گاڑی سے کچل کر 8 افراد ہلاک، کسان مظاہرین برہم

Mon, 04 Oct 2021 10:59:58    S.O. News Service

لکھنؤ؍ لکھیم پور،4؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) لکھیم پور کے تکونیا علاقہ میں زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کے دوران مظاہرین پر ایک گاڑی کے چڑھ جانے  کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ الزام ہے کہ  مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کے بیٹے  نے  کسانوں پر گاڑی چڑھا دی۔ اس واقعہ میں خبر لکھے جانے تک  ۸؍ ہلاکتوں کی  بات سامنے آرہی  ہے۔ ان میں ۴؍کی موت گاڑی سے کچل کر جبکہ ۴؍دیگر کی موت گاڑی پلٹنے سے ہوئی۔ وہیں ایک درجن سے زائد کسان زخمی ہیں۔ اس واقعہ کے بعد مشتعل کسانوں نے وزیر کے بیٹے کی گاڑی سمیت ۲؍گاڑیوں کو نذر آتش کردیا۔

مرکزی وزیر کے بیٹے آشیش کی گاڑی روکنے کی کوشش میں ایک کانسٹبل سمیت ۲؍ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس نے زخمیوں کو اسپتال بھیجا ہے جبکہ نائب وزیر اعلیٰ کو خفیہ راستے  سے لکھنؤ کے لئے روانہ کیا گیا ہے۔ کسان ان ہی کا راستہ روکنے کیلئے اکٹھا ہوئے تھے۔  اِدھر واقعہ کی جانکاری ملتے ہی وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اے ڈی جی لا اینڈ آرڈر پرشانت کمار کو لکھیم پور بھیجا ہے۔ وہیں آئی جی رینج لکھنؤ لکشمی سنگھ بھی موقع پر پہنچ چکی ہیں۔  بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت بھی  غازی پور بارڈر سے لکھیم   کیلئے روانہ  ہوگئے ہیں۔ صورتحال دھماکہ خیز ہے ۔

اس واقعہ کے بعد کسان مورچہ نے سبھی اضلاع کے کسانوں کو الرٹ موڈ پر رہنے کے لئے کہا ہے۔ بی کے یو کے ترجمان راکیش ٹکیت کے لکھیم پور کھیری پہنچنے کے بعد کسان اگلی حکمت عملی پر کام کرسکتے ہیں۔ الزام ہے کہ مرکزی وزیر مملکت اجے مشرا ٹینی کے بیٹے نے جان بوجھ کر  گاڑی سے کسانوں کو روند دیا۔ بھارتیہ کسان یونین نے ٹویٹ کرکے اس کی جانکاری دی ہے۔ علاقہ میں زبردست کشیدگی ہے۔  موقع پر ڈی ایم اور ایس پی سمیت بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات ہے۔ کمشنر اور آئی جی موقع پر پہنچ چکے ہیں۔ لکھنؤ سے تین کمپنی پی اے سی بھی روانہ ہوچکی ہے۔کسانوں کی موت کی اطلاع کے بعد ان میں بہت اشتعال ہے۔ انہوں نے تکونیا قصبہ کے گرو نانک تراہے پر لاش رکھ کر مظاہرہ شروع کردیا ہے۔

 زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسان لکھیم پور میں نائب وزیراعلیٰ  کیشوپرساد موریہ کا راستہ روکنے کیلئے اکٹھا ہوئے تھےجو  بنبیر پور گاؤں کے دورے پر پہنچنےوالےتھے۔  بتایا جا رہا ہےکہ کسانوں نے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کو ایک ہفتہ قبل کالے جھنڈے دکھائے تھے جب وہ سمپورنا نگر کے دورے پر تھے۔ جس کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ ’’ہم اپنی پر آگئے تو کیا کرسکتے ہیں؟ یہ سب جانتے ہیں۔ ‘‘ اُنہوں نے کہا تھا کہ ’’میں ایم ایل اے اور ایم پی سے پہلے کچھ اور بھی تھا۔‘‘

  ان کے اس بیان سے کسان حد درجہ ناراض تھے۔ اتوار کو ڈپٹی سی ایم کیشو پرساد موریادورہ تکونیا کا پروگرام جاری  ہونے کے بعد سے کسان متحرک ہوگئے تھے۔   صبح سے ہی ہزاروں کسان سیاہ جھنڈوں کے ساتھ تکونیا پہنچنے لگے اور ہیلی پیڈ پر قبضہ کرلیا جس کے بعد  سڑک کے راستے  جب ڈپٹی سی ایم کا قافلہ لکھیم پور سے تکونیا کی طرف روانہ ہوا تو جمع ہونے والے کسانوں نے سڑکیں بلاک کر کے احتجاج شروع کر دیا۔ 

   مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کے بیٹے آشیش مشرا عرف مونو کی گاڑی سےکئی کسانوں  کے کچلے جانے کے بعد حالات اچانک بگڑ گئے اور  بھگدڑ مچ گئی۔ ا س کے بعد برہم کسانوں نے آشیش کی گاڑی سمیت کئی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔  اس دوران پولیس بے بس رہی۔  تاہم ہنگامہ آرائی کے تقریباً ایک گھنٹے بعد پولیس نے کچھ کنٹرول کیا۔

  اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی راکیش ٹکیت نے ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارموں  کے ذریعہ عوام کو اس کی اطلاع دی اور بتایا کہ وہ اور دیگر کسان لیڈر لکھیم پورکھیری کیلئے روانہ ہورہے ہیں۔ ٹکیت نے  الزام لگایا کہ کسانوں پر فائرنگ بھی ہوئی ہے۔ یوپی  کے اس  واقعہ کےبعد کسان تحریک  میں شدت آسکتی ہے۔


Share: